ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مجرمانہ کیس:شاہی امام مسجد کا سربراہ ہونے کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے

مجرمانہ کیس:شاہی امام مسجد کا سربراہ ہونے کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے

Mon, 28 Nov 2016 13:21:36    S.O. News Service

نئی دہلی، 27؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )دہلی کی ایک عدالت نے جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری کے خلاف ایک مجرمانہ معاملے کو مسترد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسجد کے سربراہ ہونے کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے من گھڑت 'اورتصوراتی خطرے کی آڑ میں عدالتوں کی طاقت سے فراراختیار نہیں کر سکتے۔فرقہ وارانہ کشیدگی کی بات کو مضحکہ خیزقرار دیتے ہوئے عدالت نے شاہی امام کی اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کو زیڈ پلس سیکورٹی حاصل ہے اور اگر ان کو سماعت کا سامنا کرنا پڑا تو تکلیف ہوگی۔عدالت نے ان کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے نیشنل ہیرالڈ معاملے کی مثال دی ، جہاں کانگریس صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی بطور ملزم عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ایڈیشنل سیشن جج لوکیش کمار شرما نے کہاکہ اس دلیل میں دم نظر نہیں آتا کیونکہ حال ہی میں اپوزیشن پارٹی کی بڑی لیڈر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو نیشنل ہیرالڈ معاملے میں بطور ملزم طلب کیا گیا تھا اور انہیں بہت زیادہ سیکورٹی خطرہ ہے لیکن وہ بغیر کسی تکلیف کے عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے کہا کہ اگر ایسی چھوٹ اور رعایتوں کو قانونی میدان میں لایا جاتا ہے تو کسی بھی مسلک کے نام نہاد مذہبی سربراہ کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکے گا۔شاہی امام نے مجسٹریٹ عدالت کے مئی 2016کے فیصلے کے خلاف دائر جائزہ درخواست پر یہ تبصرہ کیا۔ان کے خلاف یہ معاملہ 2001میں سرکاری نوکر شاہوں کے ساتھ مبینہ مار پیٹ کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔


Share: